نسبندی کرانے والے کی امامت

نسبندی کرانے والے کی امامت
نومبر 3, 2018
بیوی کا آپریشن کرانے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

نسبندی کرانے والے کی امامت

سوال:۱-ایک شخص نے حکومت کی دبش میں نسبندی کرالی یہ شخص امامت کے فرائض انجام دے سکتا ہے یا نہیں؟ حالانکہ صوم وصلٰوۃ کا پابند ہے؟

۲-ایک ماسٹر صاحب نے اپنا آپریشن (نسبندی ) کروالیا حالانکہ نماز کا پابند ہے لیکن امام صاحب صف اول میں کھڑے ہونے سے سختی سے روکتے ہیں، کیا ان کا روکنا درست ہے؟

(۱)اس روایت کاپہلاجزء صحیح مسلم (کتاب الایمان ،باب کون الاسلام ماکان قبلہ،حدیث نمبر:)میں ہے،البتہ اس کادوسراجزء التوبۃ تہدم ماکان قبلہا اس روایت کاحصہ نہیں ہے، بلکہ ان الفاظ میں کوئی روایت نہیں ہے،امام نووی نے ایک حدیث کی تشریح میں یہ عبارت لکھی ہے،دیکھئے:ریاض الصالحین،ج۱،ص:۲۶۸،تحقیق:د/ماہریسین الفحل۔البتہ اس مفہوم کی روایت ملتی ہے،مثلا:التائب من الذنب کمن لاذنب لہ(سنن ابن ماجہ ،کتاب الزہد،باب ذکرالتوبۃ،حدیث نمبر: ۴۳۹۱، السنن الکبری للبیہقی،کتاب الشہادات،باب شہادۃ القاذف،حدیث نمبر:۲۱۰۷۱)

ھـو المـصـوب

۱-نسبندی کرانا فسق ہے اور فاسق کی امامت مع الکراہت درست ہے، لیکن اگر نسبندی کرنے والے نے توبہ کرلی ہے اور اس فعل پر نادم ہے تو ایسی صورت میں اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی۔

۲-نسبندی کرانے والے کو صف اول میں کھڑا ہونے سے امام صاحب بطور تنبیہ روک سکتے ہیں، ایسے شخص کو چاہیے کہ توبہ واستغفار کرے۔ حضور ﷺنے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے:

لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ ثم یجلس فیہ(۱)

تحریر: محمدمستقیم ندوی               تصویب: ناصر علی ندوی