فاسق کی امامت

فاسق کی امامت
نومبر 3, 2018
فاسق کی امامت
نومبر 3, 2018

فاسق کی امامت

سوال:۱-عشرت نام کا ایک شخص ایک پاکدامن عورت پر جھوٹا الزام لگاتا ہے جس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے؟

۲-اگر ایسا شخص امامت کرے تو کیا اس کی امامت جائز ہے؟

۳-زناثابت ہونے کے لئے ہماری شریعت نے کیا اصول مقرر فرمایا ہے؟

ھـو المـصـوب

۱-جھوٹا الزام لگانے والے کو سمجھایا جائے کہ وہ اپنی اس شنیع حرکت سے باز آجائے اور اگر وہ نہیں مانتا تو اس پر اس طرح کا اخلاقی دباؤ ڈالا جائے کہ جھوٹا الزام لگانا چھوڑدے(۱) اس سلسلہ میں اگر بائیکاٹ کرنا پڑے ، ملناجلنا ترک کرنا پڑے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

۲-اگر مذکور شخص بے بنیاد زنا کا الزام لگاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی لیکن مکروہ تحریمی ہوگی(۲)

۳-زنا کے ثبوت کے لئے چارگواہوں کا ہونا شرعاً ضروری ہے(۳)

تحریر: محمدطارق ندوی      تصویب: ناصر علی ندوی