غیرشادی شدہ کی امامت

سولہ سال کے لڑکے کی امامت
نومبر 3, 2018
غیرشادی شدہ کی امامت
نومبر 3, 2018

غیرشادی شدہ کی امامت

سوال:۱-آدمی عالم ہے اور بالغ بھی ہے لیکن اس نے شادی نہیں کی

(۱) ولایجوز للرجال أن یقتدوا بإمرأۃ وصبی…… وأما الصبی فلأنہ متنفل فلا یجوز اقتداء المفترض بہ وفی التراویح والسنن المطلقۃ جوزہ مشائخ بلخ ولم یجوزہ مشائخنا۔الہدایہ مع الفتح،ج۱،ص:۳۶۷

(۲)…… فإن لم یوجد فیھما شیٔ فحتی یتم لکل منھم خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی لقصر أعمار أھل زماننا۔ درمختار مع الرد،ج۹،ص:۲۲۶

ہے جو ترک سنت ہے وہ نماز پڑھاسکتا ہے یعنی مسجد میں امامت کاکام انجام دے سکتا ہے،جو ثبوت ملے اس حدیث شریف کا حوالہ ضرور دیں۔

۲-ایک لڑکا حافظ اور عالم ہے لیکن اس کے ابھی داڑھی نہیں نکلی ہے یعنی ابھی وہ نابالغ ہے تو کیا وہ فرض نماز پڑھاسکتا ہے۔ (نقل از ہندی)

ھـو المـصـوب

۱- غیرشادی شدہ شخص کی امامت درست ہے، امامت کے لئے نکاح کا ہونا شرط نہیں ہے(۱)

۲-داڑھی کا نکلنا بلوغ کی علامت نہیں ہے، بلکہ بلوغ کی علامت یہ ہے کہ انزال ہو یا وہ محتلم ہو جائے۔ یعنی سونے کی حالت میں اس کو احتلام ہونے لگے، یا اگر کسی عورت ولڑکی سے تعلق ہو تو اس سے حمل ٹھہرجائے۔ اگر یہ سب علامتیں نہ ہوں تو پندرہ سال کی عمر ہو۔ مذکورہ لڑکے سے تحقیق کرلی جائے کہ وہ بالغ ہوا یا نہیں؟ اس سلسلہ میں اسی کی بات معتبر مانی جائے گی۔ اگر وہ اپنے کو بالغ کہے تو اس کی امامت درست ہے، اور اگر نابالغ کہے تو اس کے پیچھے بالغوں کی فرض نماز درست نہیں ہوگی:

وبلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال اذا وطی فان لم یوجد فحتی یتم لہ ثمانی عشر سنۃ عند أبی حنیفۃؓ…… وقالا إذا تم للغلام والجاریۃ خمس عشر سنۃ فقد بلغا وھو روایۃ عن أبی حنیفۃ ؒوھو قول الشافعیؒ (۲)

تحریر:محمدظفرعالم ندوی   تصویب: ناصر علی ندوی