جھوٹ بولنے والے کی امامت

جھوٹ بولنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018
فحش بولنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

جھوٹ بولنے والے کی امامت

سوال:محلہ کی مسجد میں ایک امام صرف حافظ ہیں تمام لوگ ان کی امامت ناپسند کرتے ہیں بہت سے حضرات نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردیا ہے، امام صاحب جھوٹ بولنے کے عادی ہیں، مسلمانوں کے درمیان انتشار وافتراق بھی پھیلاتے رہتے ہیں اور سگریٹ کے بہت عادی ہیں حتی کہ مسجد کے گیٹ تک پیتے آتے ہیں، متولی ان کے ساتھ ہے اس لئے امامت چھوڑنے سے وہ انکار کرتا ہے ۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

ھـو المـصـوب

مذکور امام میں جبکہ جھوٹ بولنے کی عادت اور مسلمانوں کے مابین افتراق وانتشار پھیلانے کا مزاج ومذاق وعمل ہے تو یہ دینی فساد ہے اور فسق ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی امامت ناپسند کرتے ہیں اس لئے امام مذکور کی امامت مکروہ تحریمی ہے:

(۱)……وإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وإن الرجل لیکذب حتی یکتب کذاباً۔ صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ،باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ،حدیث نمبر:۲۶۰۷

ولوأم قوماً وھم لہ کارھون إن الکراھۃ لفساد فیہ أو لأنھم أحق بالإمامۃ منہ کرہ لہ ذلک تحریماً لحدیث أبی داؤد ’لایقبل اﷲ صلٰوۃ من تقدم قوماً وھم لہ کارھون(۱)

لہذا مذکورہ امرکے پیش نظر امام مذکور کو نماز پڑھانا چھوڑدینا چاہئے اور متولی ومقتدیوں کی ذمہ داری ہے کہ بصورت دیگر مزید فتنے سے بچتے ہوئے حکمت عملی کے ساتھ امام مذکور کی جگہ کوئی دوسرے صالح عالم اور باعمل امام کو مقرر کریں۔

تحریر:محمد ظفرعالم ندوی  تصویب:ناصر علی ندوی