جھوٹ بولنے والے کی امامت

جھوٹ بولنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018
جھوٹ بولنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

جھوٹ بولنے والے کی امامت

سوال:ایک امام صاحب جو کہ حافظ قرآن بھی ہیں ایک بڑے گاؤں

==     ویجب أن یکون امام القوم فی الصلاۃ أفضلھم فی العلم والورع والتقوی والقراء ۃ والحسب والنسب والجمال علی ھذا اجماع ……۔ الفتاویٰ التاتارخانیۃ،ج۱،ص:۳۷۵

(۱)وإیاکم والکذب فان الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار ومایزال الرجل یکذب ویتحری الکذب حتی یکتب عند اﷲ کذابا۔ صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب قولہ تعالیٰ یاأیھا الذین آمنوا اتقوا اﷲ وکونوا مع الصادقین۔ حدیث نمبر:۶۰۹۴، صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب قبح الکذب وحسن الصدق، حدیث نمبر:۲۶۰۷ واللفظ لہ

والعالم بالسنۃ أولیٰ بالتقدیم إذا کان یجتنبب الفواحش الظاھرۃ۔ الفتاوی التاتارخانیہ،ج۱،ص:۳۷۵

کی جامع مسجد میں امامت وخطابت کے اہم ترین فرائض انجام دے رہے ہیں، ایک قضیہ میں اپنی متعصبانہ ذہنیت کے ذریعہ حق وباطل، اچھے اور برے کے امتیاز کو ختم کرکے اپنے ان مناصب پر فائز ہیں۔ موصوف نے جو دروغ گوئی، کذب بیانی اور افتراسازی کا ایک ڈرامہ کیا ہے مندرجہ ذیل صورت حال زاویہ تحریر میں لاکر میرا استفتاء یہ ہے کہ ایسے امام صاحب کے بارے میں شرعی نقطہ نظر کیا ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

بشرط صحت واقعہ اگر ایسے امام کو ہٹانے میں انتشار واختلاف کا اندیشہ ہے تو امام کو ہٹایا نہیں جائے گا بلکہ اسی کے پیچھے نماز پڑھی جائے گی۔ حدیث شریف میں ہے:

صلوا خلف کل بر وفاجر(۱)

اگر ہٹانے میں کوئی انتشار نہیں ہے تو ایسے امام کو ہٹادیناچاہئے، سمجھداری کے ساتھ ہٹانے کی کوشش کریں جب تک نہ ہٹے نماز پڑھتے رہیں،امت کااتحاد بہت بڑی چیز ہے۔ بہرصورت اس کا لحاظ رکھیں،انتشار اور افتراق سے بچیں۔

تحریر:محمد طارق ندوی      تصویب:ناصرعلی ندوی