جس امام کے مخارج درست نہ ہوں

فاسق کی امامت
نومبر 3, 2018
جس امام کے مخارج درست نہ ہوں
نومبر 3, 2018

جس امام کے مخارج درست نہ ہوں

سوال:۱-ایک امام جس کی صرف سورہ فاتحہ درست ہے، باقی جب وہ اس کے آگے کوئی بھی سورہ پڑھتا ہے تو ’ق‘کی جگہ ’ک‘، ’غ‘ کی جگہ ’گ‘ وغیرہ استعمال کرتا ہے تو کیا ایسے امام کی اقتداء درست ہے اور کیا نماز ہوجاتی ہے؟ اس امام کے چاہنے والے حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کی سورہ فاتحہ درست ہے اور باقی سورتیں درست نہ ہوں تو بھی نماز ہوجاتی ہے۔

۲-زید کی مسجد میں ایک ایسا امام ہے جو بدعتی ہے اور جس مسجد میں نماز پڑھاتا ہے ، اس میں اکثریت صحیح العقیدہ حضرات کی ہے، وہ امام قرآن پاک بھی صحیح نہیں پڑھتا ہے یعنی تلفظ صحیح نہیں ہے اور اس کی خاص عادت یہ ہے کہ اگر وہ بیمار ہوجاتا ہے تو مسجد کے دروازہ پر پلنگ بچھاکر پڑا رہتا ہے ،

(۱) ویکرہ الاقتداء بالمشھور بأکل الربا۔ فتح القدیر، ج۱،ص:۳۶۰

(یعنی بیماری میں اس کے نزدیک نماز معاف ہے) پھر بھی جب شام میں کچھ طبیعت ٹھیک ہوتی ہے تو عشاء کی نماز پڑھاتا ہے، ایسی حالت ہمیشہ علالت میں رہتی ہے تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز جائز ہے، اور ایسی صورت میں صحیح العقیدہ حضرات اپنی نمازکہاں ادا کریں، واضح رہے کہ ان حضرات کے مکانات مسجد کے قریب ہیں اور ان کا حق بھی اس مسجد میں نماز پڑھنے کا بنتاہے اور اگر وہ اس مسجد سے چلے جائیں گے تو وہ مسجد بدعتیوں کے قبضہ میں آجائے گی، اس ڈر سے وہ مسجد بھی نہیں چھوڑتے ہیں، اور نہ ہی یہ حضرات امام کو ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں، کیا ایسی صورت میں اس امام کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟

ھـو المـصـوب

ایسا امام جس کی قرأت صحیح نہیں ہے ، بلکہ ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف ادا ہوجاتا ہے، اس کے پیچھے صحیح قرأت کرنے والوں کی اقتداء صحیح نہ ہوگی، نیز اگر ایسے امام کے علاوہ صحیح قرأت کرنے والے کسی امام کے پیچھے اقتداء ممکن ہو تب بھی ایسے امام کی اقتداء صحیح نہ ہوگی، خصوصاً جبکہ ایسا امام قرأت صحیح کرنے کی کوشش بھی نہ کرے:

ولا غیر الألثغ بہ أی بالألثغ علی الأصح کما فی البحر عن المجتبیٰ وحررالحلبی وابن الشحنۃ أنہ بعد بذل جھدہ دائما حتماً کالأمی فلا یؤم إلا مثلہ ولا تصح صلاتہ اذا أمکنہ الاقتداء بمن یحسنہ أو ترک جھدہ أو وجد قدر الفرض مما لا لثغ فیہ ھذا ھوالصحیح المختار فی حکم الألثغ (۱)

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ صرف سورہ فاتحہ درست ہونی چاہئے بقیہ نہیں، درست نہیں ہے۔

۲-امام مذکور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے:

(۱) درمختار مع الرد،ج۲،ص:۳۲۸

قال الرملی ذکر الحلبی فی شرح منیۃ المصلی أن الکراھۃ لتقدیم الفاسق والمبتدع کراھۃ التحریم(۱)

اگر ایسے امام کو ہٹانا ممکن نہ ہو تو دوسری مسجد میں بلاکراہت نماز پڑھ سکتے ہیں:

ذکر الشارح وغیرہ أن الفاسق اذا تعذر منعہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرھا ینتقل الی مسجد آخر وعلل فی المعراج بأن فی غیرالجمعۃ یجد إماماً آخر غیرہ (۲)

مسجد کی مذکورہ صورت حال میں ایسے فاسق وبدعتی امام کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے:

قال المرغینانی تجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوز الصلاۃ خلفہ مع الکراھۃ وإلا فلا ھکذا فی التبیین……ولو صلی خلف مبتدع أو فاسق فھو محرز ثواب الجماعۃ لکن لاینال مثل ماینال خلف تقی(۳)

خلاصہ یہ کہ ایسے امام کے پیچھے کراہت کے ساتھ مجبوراً نماز جائز ہے، جماعت کا ثواب حاصل ہوگا۔

تحریر: محمد طارق ندوی     تصویب: ناصر علی ندوی

نوٹ:ایسے مقتدیوں کی نماز مکروہ تحریمی ہوگی جن مقتدیوں نے اس کو امامت کے لئے بڑھایا ہو(ناصرعلی)