جس امام کے مخارج درست نہ ہوں

جس امام کے مخارج درست نہ ہوں
نومبر 3, 2018
جس امام کے مخارج درست نہ ہوں
نومبر 3, 2018

جس امام کے مخارج درست نہ ہوں

سوال:۱-زید سورہ فاتحہ میں ’ایاک نعبد وایاک نستعیّن‘ پڑھتا ہے، جبکہ قرآن شریف میں ’وایاک نستعین‘ لکھا ہے، کیا پڑھا جاوے نستعین یا نستعیّن ’ت‘ کو ’عین‘ میں ملاکر تشدید لگاکر پڑھتا ہے، امام کو بار بار ٹوکنے پر صحیح نہیں پڑھتا ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنی صحیح ہے یا نہیں؟

۲-فجر کی سنت مؤکدہ اگرجماعت ہورہی ہے تو سنت کس وقت تک پڑھی جاسکتی ہے یا جماعت میں شامل ہوجاوے سنت نہ پڑھی جائے؟

ھـو المـصـوب

۱-نستعین کا کوئی حرف مشدد نہیں ہے، لہذا مشدد پڑھنا غلط ہے(۲) امام کو خیال رکھ کر پڑھنا

(۱)وإن کان الخطأ بإبدال حرف بحرف فان أمکن الفصل بینھما بلا کلفۃ کالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مکان الصالحات فاتفقوا علی أنہ مفسد و إن لم یمکن إلا بمشقۃ کالظاء مع الضاد والصاد مع السین فأکثرھم علی الفساد لعموم البلوی۔ ردالمحتار،ج۲،ص:۳۹۷

(۲) إن الخطأ إما فی الإعراب أی الحرکات والسکون ویدخل فیہ تخفیف المشدد وقصر الممدود وعکسھا…… والقاعدۃ عند المتقدمین أن ما غیر المعنی تغییراً یکون اعتقادہ کفراً یفسد فی جمیع ذلک سواء کان فی القرآن أم لا…… فالمعتبر فی عدم الفساد عند عدم تغیرالمعنیٰ کثیراً وجود المثل فی القرآن عندہ والموافقہ فی المعنی عندھما۔ ردالمحتار،ج۲،ص:۳۹۳

چاہئے ، اگر امام صحیح پڑھنے پر قادر نہیں ہے تو دوسرے امام کا نظم کیا جائے، ایسے امام کو امامت نہ کرنی چاہئے، اگر امامت کرتاہے تو اس کی امامت کراہت کے ساتھ درست ہوگی۔

۲-فجر کی فرض نماز ایک رکعت بھی ملنے کی امید ہو تو سنت فجر پڑھ لی جائے اس کے بعد فجر کی فرض میں شامل ہو اور ایک رکعت بھی ملنے کی امید نہ ہو تو فجر کی فرض نماز میں سنت پڑھے بغیر شامل ہوجائے(۱)

تحریر: محمد مستقیم ندوی              تصویب:ناصر علی ندوی