جذامی امام کے پیچھے نماز

جذامی امام کے پیچھے نماز
نومبر 3, 2018
نماز کے بارے میں غلط عقیدہ رکھنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

جذامی امام کے پیچھے نماز

سوال:۱-اگر کوئی شخص سفید داغ یا کوڑھ کا مریض ہے تو وہ امامت

(۱)وکذا تکرہ خلف أمرد وسفیہ ومفلوج وأبرص شاع برصہ۔ درمختار مع الرد،ج۲،ص:۳۰۲

والظاھر أن العلۃ النفرۃ ولذا قید الأبرص بالشیوع لیکون ظاھراً۔ ردالمحتار، ج۲،ص:۳۰۲

کرسکتا ہے؟

۲-اگر کوئی شخص قرآن پاک کو غلط پڑھتا ہو اور لوگوں کے معترض ہونے پر یہ کہتا ہو کہ دھیرے دھیرے صحیح کرلوں گا، وہ امامت کرسکتا ہے؟ اور وہاں صحیح پڑھنے والا موجود ہے؟

۳-اگرکوئی شخص جس کے پاس عربی زبان جاننے کی کوئی سند نہیں ہے، اور نہ ہی وہ حافظ ہی ہے اور وہ قرآن پاک کا ترجمہ سناتا ہے جس کے صحیح ہونے پر لوگوں کو اعتراض اور شکوک ہیں، تو کیا اس کو قرآن پاک کاترجمہ سنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

۴-اگر کسی شخص کی زبان میں لکنت ہے یا توتلاتا ہے تو کیا اس سے امامت کرائی جاسکتی ہے؟

۵-اگر کسی نے ایسی عورت سے شادی کیا ہو جس کے پہلے شوہر نے اس کو طلاق نہ دیا ہو تو کیا اس شخص سے امامت کرائی جاسکتی ہے؟

۶-اگر کسی شخص کے پاس مسجد کی رقم ہو اور وہ اس کو وہ اپنے ذاتی مصارف میں لاتا ہے اور اس رقم کے مطالبہ پر یہ کہتاہو کہ میں مسجد کی رقم دھیرے دھیرے جیسے ہی میرے حالات درست ہوں گے، ادا کروں گا توکیا یہ جائز ہے؟

۷-کسی ایسے شخص کو جسے ارکان اسلام، احادیث، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا علم نہیں ہے، اس کو امام مقرر کیا جاسکتا ہے؟

ھـو المـصـوب

۱-سفید داغ (برص) کی وجہ سے اکثر جلد سفید ہو تو اس کی امامت مکروہ ہے:

وکذا تکرہ خلف أمرد…… وأبرص شاع برصہ(۱)

(۱)درمختار مع الرد مع الرد،ج۲،ص:۳۰۲                                                 ==

۲- قرآن پاک اگر ایسا غلط پڑھتا ہے جس سے معنی میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی، لیکن اگر معنی میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی(۱) بہرحال مقدم صحیح قرأت والا ہوگا:

ثم الأحسن تلاوۃ و تجویدا للقراء ۃ(۲)

۳-ایسا شخص ترجمہ پڑھ کرسناسکتا ہے۔

۴-اگر ایسی لکنت ہے کہ الفاظ میں تغیر وتبدل ہوجاتا ہے لیکن وہ اس کو صحیح کرنے کی کوشش کرتاہے تو اس کی نماز صحیح ہے، اگرصحیح اور مستند ترجمہ پڑھ کر سناتا ہے تو یہ درست ہے:

ولما علمت من أنہ مادام فی التصحیح ولم یقدر علیہ فصلاتہ جائزۃ وان ترک جھدہ فصلاتہ فاسدۃ(۳)

جس کے لکنت ہے اس کے پیچھے صحیح سالم کی اقتداء درست نہ ہوگی، لیکن جن لوگوں کے لکنت ہے ان کی نماز درست ہوگی:

الراجح المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الألثغ لغیرہ ممن لیس بہ لثغۃ (۴)

فیمنع اقتداء السالم بہ ویجوز لہ أن یؤم مثلہ(۵)

۵-اس کی امامت مکروہ ہے،البتہ اس کو امامت سے علیحدہ کرنا لازم ہے ۔

==     قولہ ’’وفاسق‘‘ من الفسق وھو الخروج عن الاستقامۃ ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزانی وأکل الربوا ونحو ذلک۔ ردالمحتار،ج۲،ص:۲۹۸

(۱)إن ذکر حرفا مکان حرف ولم یغیر المعنی بأن قرأ أن المسلمون أن الظالمون وما أشبہ ذلک لم تفسد صلاتہ وإن غیرالمعنی فان أمکن الفصل بین الحرفین من غیر مشقۃ…… تفسد صلاتہ عند الکل۔ الفتاویٰ الہندیہ ج۱،ص:۷۹

(۲)درمختار مع الرد،ج۲،ص:۲۹۴

(۳)ردالمحتار ج۲،ص:۳۲۸

(۴) ردالمحتار ج۲،ص:۳۲۸،الفتاویٰ الہندیہ ج۱،ص:۸۶

(۵)الموسوعۃ الفقہیۃ ج۶،ص:۱۷۶

۶-اگر ذاتی خرچ میں لاتا ہے تو یہ عمل جائز نہ ہوگا، ایسے کی امامت مکروہ ہے۔

۷-ایسے شخص کو امامت جیسے عظیم منصب پر فائز نہ کیا جائے۔

تحریر:مسعود حسن حسنی    تصویب: ناصر علی ندوی