تارک صلاۃکوامام وپیشوابنانا؟

بیوی کا آپریشن کرانے والے کی امامت
نومبر 3, 2018
نماز میں کوتاہی کرنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

تارک صلاۃکوامام وپیشوابنانا؟

سوال:ایک شخص خود کو عالم اور مرشد کہتا ہے لیکن تندرستی کے باوجود وہ گھر ہی میں رہتا ہے۔ گاہے گاہے جلسوں میں، محفلوں میں، نکاحوں میں، جنازوں میں جاتا ہے۔ شہر سے باہر کا بھی سفر کرتا ہے لیکن گھر کے سامنے ہی مسجد ہے وہاں جماعت سے نماز نہیں پڑھتا اور نہ پڑھاتا ہے ، نہ جمعہ کی نماز کے لئے جاتا ہے نہ تراویح کے لئے مسجد میں جاتاہے۔

۱-کیا ایسے شخص کو امام یا پیشوا بنایا جاسکتا ہے؟

۲-کیا ایسا شخص واجب التقلید ہے؟

۳-نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟

۴-کیا ایسا شخص مرید کرسکتا ہے؟

۵-کیاا یسا شخص نکاح یا جنازہ پڑھاسکتا ہے؟

ھـو المـصـوب

۱،۲،۴-نہیں (۱)

(۱)عن أبی ھریرۃؓ أن رسول ﷲ ﷺ فقد ناسا فی بعض الصلوات فقال لقد ھممت أن أمر رجلاً یصلی بالناس ثم أخالف إلی رجال یتخلفون عنھا فأمر بھم فیحرقوا علیھم بحزم الحطب بیوتھم ولوعلم أحدھم أنہ یجد عظماً سیمناً لشھدھا۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، حدیث نمبر:۶۵۱

وذکر فی غایۃ البیان معزیا إلی الأجناس أن تارک الجماعۃ یستوجب إساء ۃ ولاتقبل شھادتہ إذا ترکھا استخفافاً بذلک ومجانۃ أما إذا ترکھا سھواً…… فلایستوجب الاساء ۃ وتقبل شھادتہ۔ البحرالرائق،ج۱،ص:۶۰۳

۳-مستقل تارک جماعت فاسق ہے (بلاعذر تارک ہو)

۵-دوسرے کو پڑھانا چاہئے۔

تحریر: محمد ظہور ندوی