سجدہ سہو بھول جائے ؟

سورت پڑھنا بھول جائے ؟
نومبر 2, 2018
سجدہ سہو بھول جائے ؟
نومبر 2, 2018

سجدہ سہو بھول جائے ؟

سوال:۱-فرض نماز یا سنت میں واجب وغیرہ کے چھوٹ جانے پر یا تعدیل ارکان،تقدیم وتاخیرکی صورت میں سجدہ سہو لازم آتا ہے،اگر کوئی شخص بھول سے قصداً دونوں جانب سلام پھیردیتا ہے اور سجدہ سہو نہیں کرتا ہے تو کیا نماز کا اعادہ ضروری ہے، یا نہیں؟اگر اعادہ واجب ہے تو اس نماز کی نیت کیا ہوگی؟اگر فرض کی نیت کرتاہے تو پہلے والی نماز کیا ہوگی، نفل ہوجائے گی یا فرض؟

۲-اگر فرض کی نیت کرتا ہے تو مسئلہ کے اعتبار سے جمعہ وعیدین میں سجدۂ سہو ساقط ہے، آخر کیوں وہ نماز مکمل نہیں ہوتی، اگر نہیں ہوتی تو دوبارہ لوٹانا جمعہ وعیدین میں ضروری ہوگا؟

۳-دہرائی جانے والی نمازمیں کوئی شخص شامل ہوگیا تو اس کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-کسی واجب کے سہواً ترک یا تعدیل ارکان نہ پائے جانے سے جو سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے، اگر اسے بھی سہواً یا عمداً ادا نہ کیا تو نماز کا اعادہ ضروری ہے، اور یہ نماز پہلی نماز کی کمی اور نقصان کی تلافی کے لئے ادا کی جائے گی۔

علامہ حصکفیؒ نے درمختار میں صراحت کی ہے:

ولھاواجبات لاتفسد بترکہا…… والمختار أنہ جابر للأول(۱)

عبارت بالا کا حاصل یہ ہے کہ واجبات نماز کے ترک سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے،لیکن نماز فاسدنہیں ہوتی ہے،لہذا اگر کسی نے سجدہ سہو نہیں کیا اور سلام پھیر دیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے، اعادہ نہ کرنا فسق ہے، البتہ دوسری بار جو نماز پڑھی جائے گی اس میں اعادہ کی نیت ہوگی۔

۲-جمعہ وعیدین میں سجدہ سہو کا نہ ہونا فتنہ سے بچنے کے لئے ہے،ان نمازوں میں عوام الناس کی بڑی کثرت ہوتی ہے اورایک بھیڑ ہوتی ہے،اگر سجدہ سہو کیاجائے تو لوگوں کی نماز فاسد اور خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا اس حکمت کے پیش نظر سجدہ سہو ادا نہیں کیا جاتا ہے، فتاویٰ ہندیہ میں صراحت ہے:

إن مشائخنا قالوا لایسجد للسھو فی العیدین والجمعۃ لئلا یقع الناس فی فتنۃ(۲)

معلوم ہواکہ اصل فرضیت پہلی والی نماز سے ادا ہوجائے گی،اعادہ کا وجوب محض نقصان کی تلافی کے لئے ہے اور جمعہ وعیدین میں اس تلافی میں دقت ہے اور لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے،اس لئے نماز ہوجائے گی۔

۳-دہرائی جانے والی نماز میں شریک ہونے والے کی نماز فرض ادا نہ ہوگی کیوں کہ یہ اصلاً فرض نہیں ہے ،بلکہ فرض کے اتمام اور اس کے نقصان کی تلافی کے لئے ہے جیسا کہ علامہ حصکفی نے صراحت کی ہے:

والمختار انہ جابرللأول(۳)

تحریر: محمدظفرعالم ندوی  تصویب: ناصر علی ندوی