مؤذن کوچھٹی کا استحقاق

مؤذن کی کوتاہی سے متعلق ایک سوال
نومبر 2, 2018
ٹیپ ریکارڈ سے اذان
نومبر 2, 2018

 مؤذن کوچھٹی کا استحقاق

سوال:ہماری مسجد کے امام وخطیب صاحب ماشاء اﷲ حافظ وقاری عالم وفاضل ہیں اور ایک جامعہ میں عالم کورس کے وسطیٰ وعلیا درجات کے مدرس ہیں اور بعض دینی تنظیموں کے رکن بھی ہیں۔ ہم تمام مصلیان کرام امام صاحب کے خطبۂ جمعہ روزانہ درس قرآن، درس حدیث انفرادی واجتماعی خاص خاص مواقع کی نصیحتوں اور مختلف مسائل میں رہنمائی سے کافی مستفید ہوتے ہیں۔ امام صاحب کا مطالبہ ہے کہ قابل مؤذن کا تقرر کرکے امام ومؤذن کو ہفتہ میں یا عشرہ میں مقررہ کوئی بھی ایک ایک دن اس طرح چھٹی دی جاے کہ جس دن امام صاحب کو چھٹی ہو موذن صاحب اذان کے ساتھ امامت کی ذمہ داری بھی نبھائیں اور جس دن مؤذن صاحب کو چھٹی ہو امام صاحب اذان وغیرہ کی بھی ذمہ داری نبھائیں تاکہ امام وموذن اپنی گھریلو خاندانی تنظیمی ضروری تقاضوں کی تکمیل کرسکیں، لیکن مسجد کی کمیٹی اس کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ امام صاحب اپنے مطالبہ پر اٹل ہیں، ورنہ وہ مستعفی ہوجانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کس کا موقف درست ہے یا کس کا موقف قابل ترجیح ہے؟ امام صاحب کا یا کمیٹی کا؟

نوٹ:۱-مسجد ۷۰فیصد شیعہ اور ۳۰فیصد سنیوں کی مشترکہ آبادی میں واقع ہے۔

۲-قابل امام مؤذن کا معقول مشاہرہ ومسجد کے دیگر اخراجات مسجد کے کرایوں اورعمومی چندہ سے پورے بھی ہوسکتے ہیں۔

۳-امام وموذن کیلئے فیملی کے ساتھ رہائش کا بھی نظم ہے۔

ھــوالــمـصــوب:

صورت مسؤلہ میں اگر مسجد کی آمدنی میں گنجائش ہے تو مؤذن مقرر کرلینا بہتر ہے۔ امام اور مؤذن کو بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے مناسب چھٹی کا حق ہے، کمیٹی کو اس کے لئے چھٹی کی تعیین کرنی چاہئے۔ بہرحال ایسی کوئی صورت نہ اپنانی چاہئے جس میں انتشار پیدا ہو، اگر منتظمین کے سامنے کوئی ایسی دشواری ہو جس کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکتے تو افہام وتفہیم سے کام لے کر لوگوں کو مطمئن کریں۔

تحریر:محمدطارق ندوی       تصویب:ناصر علی