شرابی کی اذان

شرابی کی اذان
نومبر 2, 2018
بیڑی سگریٹ پینے والے کی اذان
نومبر 2, 2018

شرابی کی اذان

سوال:ایک مسلم محلہ کی مسجد جس کا مؤذن شراب نوشی کا عادی ہے، اور اس بات کا علم محلہ کے اکثر حضرات کو ہے اور اس الزام کے گواہ خود مؤذن کے ہم نشین ہیں، جو کہتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی ہمارے ساتھ شراب پی ہے اور ابھی اذان پڑھ رہا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ نشہ کی حالت میں بھی اذان پڑھتا ہے اور وہ اسی حالت میں مسجد ہی میں سوتا ہے اور یہ بات ذمہ داران مسجد کے علم میں مسلسل دوسال سے لائی جارہی ہے جو محلہ میں پڑھے لکھے جانے جاتے ہیں، ذمہ داروں نے محض یہ کہہ کر اس بات کو نظرانداز کیا ہے کہ ہم نے خود کبھی اس مؤذن کو نشہ کی حالت میں نہیں دیکھا ہے، لہذا کوئی اقدام نہیں کیا۔ یہاں تک کہ محلہ کے ایک شخص نے مؤذن کے لڑکے کو شراب خریدتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑکر ذمہ داروں کے سامنے پیش کیا،اور سختی سے پوچھنے پرمؤذن کے لڑکے نے صاف کہہ دیا کہ ابو نے منگائی ہے اور یہ روزانہ منگاتے ہیں۔

اس کے باوجود ذمہ داروں نے کوئی توجہ نہیں دی، صرف یہ کہہ کر کہ ابھی فوری طور پر ہمیں کوئی مؤذن نہیں ملتا، جب کہ اس سلسلہ میں کوئی جستجو بھی نہیں کی۔ اس تفصیل کی روشنی میں بتائیں کہ :

۱-کیا اس حالت میں مؤذن کا اذان پڑھنا اور مسجد میں سونا درست ہے یا نہیں؟

۲-اگر درست نہیں ہے تو ترک اذان کی ذمہ داری اور وبال کس پر ہوگا؟

ھــوالـمـصـــوب:

اگر نشہ میں اذان دیتا ہے تو مکروہ ہوگی،اور اذان کا لوٹانا بہتر ہے:

ویکرہ اذان السکران ویستحب اعادتہ(۱)

لیکن اذان دیتے وقت نشہ میں نہیں ہوتا تو بھی مکروہ ہے، لیکن اعادہ نہیں کیا جائے گا:

ویکرہ اذان الفاسق ولایعاد(۲)

بہتر یہ ہے کہ مؤذن صالح ہو، متقی ہو، سنت کا جاننے والا ہو:

وینبغی أن یکون المؤذن صالحاً تقیاً، عالماً بالسنۃ(۳)

ذمہ داران مسجد ایسے شخص سے اذان نہ دلائیں، لیکن اگر اسی کی معزولی میں مسلمانوں میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو حکمت عملی سے فتنے سے بچ کر ان کو معزول کرنے کی کوشش کریں۔

تحریر:مسعود حسن حسنی    تصویب:ناصرعلی ندوی